سابق بھارتی آف اسپنر ہربھجن سنگھ نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسا لگتا ہے بھارت کے پاس ٹیسٹ کرکٹ کےلیے کوئی آف اسپنر نہیں۔
جنوبی افریقہ کےخلاف ٹیسٹ سیریز میں بدترین ہار کے بعد بھارت کی ٹیسٹ پرفارمنس پر ہر طرف سے سوالات اٹھ رہے ہیں، ہربھجن سنگھ کا ماننا ہے کہ بھارتی ٹیم میں پانچ روزہ میچز کےلیے ایک بہترین آف اسپنر کی کمی ہے جبکہ واشنگٹن سندر کو ابھی طویل سفر طے کرنا ہے۔
ہربھجن نے کہا کہ تامل ناڈو کے آل راؤنڈر واشنگٹن کو ماہر آف اسپنر کے طور پر اپنی جگہ بنانے کےلیے بہت کچھ کرنا ہے انھیں روی چندرن ایشون جیسا بننے کے لیے کافی کام کرنا پڑیگا۔
بھارتی اسپنرز میں تیسرے نمبر پر سب سے زیادہ وکٹ لینے والے ہربھجن نے ایک تقریب میں کہا کہ واشنگٹن سندر کو مزید بولنگ کرنے کی ضرورت ہے، اسے ٹیسٹ میچ میں 30-35 اوورز کرنا ہونگے۔
انھوں نے کہا کہ ہوم ٹیسٹ سیریز کے لیے بنائی گئی ٹرننگ پچز کے حوالے سے کہا کہ ہم جس طرح کی پچز پر کھیل رہے ہیں، وہاں کسی کو باؤلر بنانے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ ہر گیند تھوڑی سی گھومتی ہے یا سیدھی ہوتی ہے۔
ہربھجن نے کہا ایک بولر کو اسی وقت اچھا بولر سمجھا جا سکتا ہے جب وہ اچھی پچوں پر وکٹیں لے، یہ بھارت کے لیے اچھی پچوں کی تیاری شروع کرنے کا صحیح وقت ہے۔
خیال رہے کہ ری چندرن ایشون کی ریٹائرمنٹ کے بعد جنوبی افریقہ، انگلینڈ، نیوزی لینڈ، آسٹریلیا کے خلاف ہونے والی ہوم سیریز میں بھارت کے اسپن کا شعبہ بہت کمزور رہا۔
from ARY News Urdu- Sports- کھیل https://ift.tt/szxBEFR
0 Comments